کہانیاں

استاد کی بیوی

استاد کی بیوی
استاد کی بیوی

 استاد کی بیوی

قلم کار: شہیر حسن

شاہد چودہ سال کا ہو چکا تھا۔
گاؤں کی مسجد میں وہ اس وقت سے سپارہ پڑھنے جاتا تھا جب وہ بہت چھوٹا سا تھا۔ ابھی تک اس نے صرف قاعدہ اور دو سپارے پڑھے تھے۔ وہ اکثر سوچتا تھا کہ مولوی صاحب کی بیوی بہت بری ہے۔ وہ اس لیے کہ ہر وقت ان سے جھگڑتی رہتی ہے۔ مولوی صاحب تو اتنے اچھے تھے۔ پورا آدھا گاؤں ان کے پیچھے نماز پڑھتا تھا۔ جب وہ جمعہ کے دن آنکھیں بند کر کے سُر لگا کر تقریر کرتے اور کوئی واقعہ سناتے تھے تو لوگ رونے لگ جاتے تھے۔ خصوصاً عاشورہ کے موقع پر تو قریبی قبرستان کی وجہ سے زیادہ لوگ ہوا کرتے تھے۔ جب وعظ میں امام حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوتا تو دھاڑیں نکل جاتی تھیں۔ خود مولوی صاحب بھی بار بار آنسو پونچھے اور ناک صاف کرتے۔ عاشورے والے جمعہ میں سب سے زیادہ چندہ اکٹھا ہوتا تھا۔

وہ جب بھی مولوی صاحب کے سامنے ان کی بیوی کی اونچی آواز سنتا، ان ہی خیالوں میں گم ہو جاتا۔ پھر سارا دن یہی سوچتا رہتا۔ وہ جتنا سوچتا ان کی بیوی کے لیے اس کی نفرت میں مزید اضافہ ہوتا جاتا۔ مولوی صاحب کے سر کی مالش کرتے ہوئے، ان کے گھر نلکا گھیڑتے ہوئے، جانوروں کو چارہ دیتے ہوئے اور ان کا گوبر صاف کرتے ہوئے یہی خیال آتا اور وہ بار بار ناگواری سے ناک سکیڑ کر گردن کو ایک طرف جھٹکا دے دیتا۔

ان ہی دنوں شاہد کو عجیب و غریب خواب آنے لگے۔ مثلا اس نے ایک دفعہ دیکھا کہ وہ استاد کی بیوی کے کپڑے دھو رہا ہے اور قمیص کے گریبان سے شعاعیں نکل رہی ہیں۔ وہ گریبان میں جھانکتا ہے تو یک لخت منظر بدل جاتا ہے۔ وہی قمیض جو وہ دھو رہا تھا، استانی پہنے ہوئے ہیں اور وہ ان کے گریبان میں دیکھ رہا ہے۔ وہ توبہ توبہ کہتے اٹھ جاتا۔ یہ اور اس جیسے کئی خواب۔ اس نے کئی دفعہ سوچا کہ استاد کو یہ خواب سنائے، لیکن وہ شرما جاتا بلکہ شرمانے سے زیادہ خوف کیکر کے اس ڈنڈے کا تھا جو ان کے مصلے کے نیچے اکثر پڑا رہتا تھا۔

ایک دن وہ ان ہی خیالات میں الجھا ہوا کام کر رہا تھا کہ کمرے سے آوازیں آنے لگیں۔ مولوی صاحب اپنی بیوی سے جھگڑ رہے تھے۔ کافی دیر منہ ماری کے بعد وہ گھر سے باہر نکل گئے۔ عجیب بات یہ کہ آج استانی کی آواز نہیں آئی تھی۔
”شاہد ادھر آؤ!“وہ پیچھے مڑا۔ دیکھا کہ وہ کمرے کی چوکھٹ پکڑے اسے بلا رہی ہیں۔”ذرا میرا سر دبا دو گے؟ بہت دُکھ رہا ہے۔“ ان  کی آنکھیں نہ جانے کیوں اتنی سرخ تھیں۔ بہت احتیاط سے دروازہ دھکیلا گیا اور بغیر آواز کے کنڈی چڑھائی گئی۔

اس دن کے بعد سے شاہد کو استانی ہمیشہ مظلوم لگی، اور ظالم استاد سے نفرت ہو گئی۔

 

www.alifnagri.net/rain

Shaheer Hassan
+ posts

ضروری نوٹ

الف نگری کی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں قارئین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ  ہمیں ای میل کریں۔ آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

Email: info@alifnagri.net, alifnagri@gmail.com

 

About the author

Shaheer Hassan

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.