اسلامی تاریخ

عشق کی انتہا حسین ہیں


یوم عاشور کائنات کی اس عظیم قربانی کا دن ہے جس دن حق اور باطل کا فرق واضح ہوا۔ دین کو بچانے کے لیے اللہ رب العزت نے جس ہستی کا انتخاب کیا اس ہستی سے بڑھ کر بہترین انتخاب ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ 

وہ حسین علیہ السلام جن کے بارے میں آقائے دو جہاںﷺ فرماتے ہیں
“حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں”
شان حسین علیہ السلام کے لیے تو تاقیامت یہ حدیث مہر لگا دی گئی کہ امام عالی مقام کی شان و مرتبہ کیا ہے۔
ذرا رب تعالی کا انتخاب دیکھیے وہ حسین جن کے ناناﷺ اللہ کے محبوب اور نبیوں کے سردارﷺ
وہ حسین جن کے والد اللہ کے شیر اور ولیوں کے امام
وہ حسین جن کی والدہ اللہ کے محبوب کی محبوب صاحبزادی اور کائنات کی معتبر ترین خاتون ہستی
وہ حسین جن کے بھائی امام حسن مجتبی علیہ السلام جن کی دین کے لیے قربانیوں کا تاقیامت نہیں بھلایا جا سکتا،جن کی سخاوت بے مثال تھی۔
وہ حسین جن کے صاحبزادے شہزادہ علی اکبر، شہزادہ امام زین العابدین اور شہزادہ علی اصغر ہوں
وہ حسین جن کی صاحبزادی کے احسانات کا دین قرض دار ہو
وہ حسین جن کی ہمشیرہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا ہوں
وہ حسین جن کی زوجہ سیدہ رباب سلام اللہ علیہا ہوں
وہ حسین جو جنت کے جوانوں کے سردار ہوں
اس حسین ابن علی کو دین بچانے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔
کربلا میں جو قربانیاں امام عالی مقام نے دی ہیں ان کا سوچ کے بھی روح کانپ جاتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے وہاں وہاں شکر کیا جہاں صبر کرنا مشکل تھا۔ 
کربلا درحقیقت حق اور باطل کی پہچان ہے۔ کربلا گزرے صدیاں گزر گئی ہیں مگر آج بھی دنیا میں حسین بادشاہ علیہ السلام کا چرچا ہے۔ 
لوگ شہادت پا کر معتبر ہوتے ہیں امام عالی مقام نے شہادت حاصل کر کے شہادت کو معتبر کر دیا۔ 
شہید کربلا کے شان کے جس پہلو پر بھی لکھیں الفاظ ختم ہو سکتے ہیں مگر آپ علیہ السلام کی شان مکمل نہیں ہو سکتی۔
وہ حسین پاک علیہ السلام جنیں اللہ کے نبی ﷺکندھوں پہ سواری کروایا کرتے تھے۔ وہ حسین علیہ السلام جن کی خاطر کریم آقاﷺ سجدوں کو طول دے دیا کرتے۔ پھر امام عالی مقام نے بھی دین کی خاطر وہ وہ قربانیاں دیں کہ دین ہمیشہ کے لیے حیدر کے لعل کا قرض دار ہو گیا۔
فرات کا پانی جن ہستیوں پہ بند کیا گیا اگر وہ چاہتے تو ایک اشارے سے فرات کو قدموں میں بلا لیتے مگر حسین علیہ السلام کا مقصد تو بہت بڑا تھا۔ تاریخ انسانی میں حسین علیہ السلام جیسا صبر کوئی نہ کر پائے گا۔ 
حسنین کریمین کی شان دیکھیے کہ آپ کے اسم گرامی بھی اللہ کی طرف سے دیے گئے یعنی آپ سے پہلے یہ نام مبارک روئے عالم میں کسی کے بھی نہ تھے۔ حسنین کریمین کا معاملہ دنیا میں تشریف لاتے ساتھ ہی کچھ الگ قسم کا تھا۔ 
حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کی چاہت ہیں اور حضرت محمد مصطفےﷺ کی چاہت امام حسین علیہ السلام ہیں۔
امام عالی مقام کا کردار بھی سنیے سبحان اللہ صبر و استقامت دنیا آج بھی حسین بادشاہ علیہ السلام سے سیکھتی ہے۔ آپ علیہ السلام ہمیشہ حالت روزہ میں ہوتے۔سخاوت اتنی کہ تین دن کی بھوک پیاس کیساتھ وقت افطار اگر در پہ سوالی آگیا تو سب کچھ اٹھا کے سوالی کو دے دیا۔ نماز سے عشق دیکھیے کہ وقت شہادت بھی سر سجدے میں تھا اور حسین پاک علیہ السلام اپنے رب کی ثنا میں مصروف تھے۔ پھر دنیا نے عجب منظر بھی دیکھا کہ سر نیزے پہ ہے اور تلاوت قرآن جاری ہے۔۔۔
یہ بلاشبہ امام عالی مقام کی ہی ذات پاک تھی جو جان کا نظرانہ پیش کر کے اسلام بچا گئے۔ 
مولا حسین پاک علیہ السلام کے غم میں رونا سنت ہے۔ کربلا کے شہدا کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اگر آپ کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑیں تو یہی آنسو ہونگے جو آپ کی بخشش کا وسیلہ بنیں گے۔ 
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے کیا خوب فرمایا 

“دین است حسین

 دین پناہ است حسین”

حسین ہی دین ہے اور دین ہی حسین ہے۔

امام عالی مقام کی شہادت وہ سانحہ ہے جسے سننے کے لیے درد اور حوصلہ چاہیے۔ آپ علیہ السلام کی شہادت دین کی سربلندی کے لیے تھی۔ دین اسلام کی فتح کے لیے امام حسین پاک نے شہزادہ علی اکبر ہمشکل مصطفے بھی قربان کر دیا، چھ ماہ کے معصوم شہزادہ علی اصغر کی دردناک شہادت بھی دیکھی، شہزادہ امام زین العابدین عابد بیمار کو بیماری کی حالت میں ظالموں کے حوالے کیا اور وفاوں کے بادشاہ مولا غازی عباس علمدار جیسے بھائی کو بھی کربلا کے میدان کے حوالے کر دیا۔
وفا تو وہ ہے جو کربلا میں کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہزادے نے نبھائی اسی لیے کہتے ہیں
“خدا کے اس جہان میں حسین سا کوئی نہیں”
امام عالی مقام مولا حسین بادشاہ پاک علیہ السلام پہ کروڑوں سلام۔

کربلا والوں پہ کروڑوں سلام۔

شہدائے کربلا پہ کروڑوں سلام۔

محمد عمر فاروق

https://twitter.com/imUmar_Farooq

محمد عمر فاروق
+ posts

ضروری نوٹ

الف نگری کی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں قارئین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ  ہمیں ای میل کریں۔ آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

Email: info@alifnagri.net, alifnagri@gmail.com

 

About the author

محمد عمر فاروق

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.