اسلامی تاریخ

ایک موچی کا حج

Mochi
Shoemaker

حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ فراغت حج کے بعد بیت اللہ میں سو گئے اور خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے باہم باتیں کر رہے ہیں،
اور ایک نے دوسرے سے سوال کیا کہ اس سال کتنے لوگ حج میں شریک ہوئے اور کتنے افراد کا حج قبول ہوا ،
دوسرے نے جواب دیا کہ چھ لاکھ لوگوں نے فریضہ حج ادا کیا لیکن ایک فرد کا بھی حج قبول نہیں ہوا،
لیکن دمشق کا ایک موچی جو حج میں تو شریک نہیں ہوا
لیکن خدا نے
اس کا حج قبول فرما کے اس کے طفیل سب کا حج قبول کر لیا،
یہ خواب دیکھ کر بیداری کے بعد موچی سے ملاقات کرنے کے لیئے دمشق پہنچے موچی نے اپنا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا کہ بہت عرصے سے میرے قلب میں حج کی تمنا تھی اور میں نے اس نیت سے تین سو درہم بھی جمع کر لئے تھے ،
لیکن ایک دن پڑوسی کے یہاں سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی تو میری بیوی نے کہا کہ اس کے یہاں سے تم بھی مانگ لاؤ تا کہ ہم بھی کھالیں،
چنانچہ میں نے اس سے جا کر کہا کہ آج آپ نے جو کچھ پکایا ہے ہمیں بھی عنایت کریں، لیکن اس نے کہا کہ وہ کھانا آپ کے کھانے کا نہیں ہے کیونکہ سات روز سے میں اور میرے اہل و عیال فاقہ کشی میں مبتلا تھے تو میں نے مردہ گدھے کا گوشت پکا لیا ہے،
یہ سن کر میں خوفِ خداوندی سے لرز گیا اور اپنی تمام جمع شدہ رقم اس کے حوالے کر کے یہ تصور کر لیا کہ “ایک مسلمان کی امداد میرے حج کے برابر ہے” حضرت عبداللہ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا کہ فرشتوں نے خواب میں واقعی سچی بات کہی تھی اور خدا تعالیٰ حقیقتاً قضا و قدر کا مالک ہے۔
[تذکرۃ الاولیاء صفحہ (123)]

ہادیہ ملک
+ posts

ضروری نوٹ

الف نگری کی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں قارئین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ  ہمیں ای میل کریں۔ آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

Email: info@alifnagri.net, alifnagri@gmail.com