معاشرہ

ہماری تہذیب اور مرحوم عامر


ہماری تہذیب اور مرحوم عامر
تحریر: لعل ڈنو شنبانی
ہم ایک مسلم قوم ہیں،ہم اسلامی مملکت میں رہتے ہیں،ہماری ایک اپنی اسلامی تہذیب ہے اس کے علاوہ مشرقی خوبصورت روایات بھی ہیں اور ہمیں مہذب قوم بننا چاہیے۔ ہم آزاد ہیں لیکن ہم پر اپنی روایات کی پاسداری لازم ہے۔ ہمیں ہر اس فعل سے بچنا چاہیے جو ملت کی بدنامی کا باعث ہو اور بعد میں جس پر ہمیں پچھتاوا ہو۔ ہمیں کچھ کرنے سے پہلے بہت سوچنا چاہیے۔
پچھلے دس سالوں سے سوشل میڈیا پر ایک کشمکش سی چل رہی ہے۔ابتدا کرنے والے کسی بات کی ابتدا کرجاتے ہیں پھر ہم اسے جنگل کے آگ کی طرح پھیلانے لگ جاتے ہیں ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس سے دین و ملت کی جگ ہنسائی تو نہیں ہو رہی؟ کہیں یہ ہماری روایات کا جنازہ تو نہیں نکل رہا ہے؟ ہمارے اس عمل سے نا اتفاقی و فتنہ تو برپا نہیں ہوگا؟ ہم یہ نہیں سوچتے کے کہ ہماری اس حرکت سے کسی کی نجی و ذاتی زندگی تو متاثر نہیں ہوگی؟ کیا ہمیں دین اسلام اور ملک کا آئین کسی کی زندگی میں مداخلت کا حق دیتا ہے؟ کیا ہمیں اللہ تعالی حقوق العباد کے بارے میں بروز محشر سوال نہیں کرے گا؟
چند ماہ پہلے معروف اینکرپرسن و سیاستدان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین مرحوم نے تیسری شادی کی جو اس کا شرعی ،قانونی حق تھا اور اس کا نجی مسئلہ تھا مگر سوشل میڈیا پر اس معاملے کو مذاق اور میمز کی شکل دی گئی۔ ہماری حیوانگی کی انتہا تو تب سامنے آگئی جب اس کی بیوی نے کورٹ میں خلع کی درخواست کی اور اس کی ذاتی وڈیوز شیئر کی۔خدا کو معلوم کہ وہ ویڈیو اصلی تھی یا جعلی۔ لیکن ہم نے بغیر تحقیق کیے ہوئے ان ویڈیوز کو بغیر تعطل کثرت کے ساتھ شیئر کیا اور ڈاکٹر عامر لیاقت جس کی طبیعت میں ہنسنے، مسکرانے اور مٹھاس  کے علاوہ کچھ نہیں تھا وہ میڈیا پر روتا ہوا برآمد ہوا ہمیں اس کے حال پر رحم نہیں آیا ہم نے تو اس مرحوم کے رونے اور ہاتھ جوڑنے پر بھی میمز بنا ڈالی یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس کی اس بے بسی پر ہماری بے حسی مزید بڑھ گئی۔یقینا ہم سب اس کے خون کے برابر زمہ دار ہیں
کسی کے مرنے کے بعد جھوٹ موٹ کی تعزیتیں پیش کرنا اور نیکی کرنا ہر گز دانش مندی نہیں۔ہمارا اصل فریضہ زندہ انسانوں کی قدر کرنا ہے روزہ نماز تو معاف ہوسکتے ہیں مگر حقوق العباد ہرگز نہیں جب تک مطلوب معاف نہ کرے۔ہم مسلمان ہیں ہم دوسروں کے عیب ظاہر کرنے کے بجائے پوشیدہ رکھنے چاہیے۔
ہماری حالت زار دیکھ کر رونا آتا ہے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اس پاکستان کا خواب تو یقیناً نہیں دیکھا ہوگا جس میں اس وقت ہم رہ رہے ہیں۔ خوف خدا تو جیسے ہمارے دلوں سے ختم ہی ہوگئی شاید ہمیں یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ ہم کھاپی پی کر مرجائیں پھر دوبارہ اٹھ کر حساب کتاب نہیں دیں گے۔ذرا سوچیے کہ آج جو ہم دوسروں کے ساتھ کر رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ کل ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے آو اللہ سے ڈریں اور رحمان کے بندے بنیں۔
لعل ڈنو شنبانی
+ posts

ضروری نوٹ

الف نگری کی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا اس مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں قارئین تک پہنچے تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ  ہمیں ای میل کریں۔ آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

Email: info@alifnagri.net, alifnagri@gmail.com

 

About the author

لعل ڈنو شنبانی

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.